RSS

المنارمسلم فاؤنڈیشن

27 Jan

 المنار کیاہے؟

المنار ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے۔اس کا قیام رڑہ پورہ خانیار سرینگر کشمیرمیںعمل میں لایاگیا اوراسکا مرکزی دفتر بھی وہیں واقع ہے۔المنار مسلم فاؤنڈیشن کوئی عوامی تنظیم نہیںبلکہ ایک تحقیقی ،تعلیمی،اصلاحی اوردعوتی ادارہ ہے۔یہ ادارہ منہجِ سلفِ صالح کے مطابق قرآن کریم اورحدیث شریف کی خدمت کیلئے وقف ہے اورالتصفیة والتربیة  کے کام پرمامور ہے ، جسکے تحت کئی ذیلی ادارے قائم ہیں جو اگرچہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہی ہیںلیکن بہت جلد مالی اور دیگرمشکلات پر قابو پاکران کو ترقی دی جائے گی:(١)المنارریسرچ انسٹی ٹیوٹ(٢)المنارایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ(٣)المناردعوت سینٹر(٤)المنارچیرٹیبل سینٹر۔
فاؤنڈیشن کے کام کو مؤثربنانے اوراس میںمزید توسیع دینے کیلئے ادارہ کی زیرنگرانی کئی فورموں کو تشکیل دیاگیا ہے جوشوریٰ کے سامنے جوابدہ ہیں : (١) جمعیة خریج جامعات المملکة العربیة السعودیة جامووکشمیر(٢)جمعیتِ جز وقتی مدارسِ کشمیر(٣)تحقیقی بورڈ برائے علمائے کشمیر۔
ریاست میں اسلام کے حوالہ سے تحقیقی مزاج استوار کرنے کیلئے فاؤنڈیشن مزید دو ذیلی شعبہ جات کو تشکیل دینے میں لگی ہوئی ہے جو حسب ذیل ہیں: (١) المنار ریسرچ لائبریری(٢)ماہنامہ المنارسرینگر۔

المنار کیوں قائم ہوا؟

 کشمیر میں اسلام کومنظم طریقے پر داخل ہوئے چھ سو سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے۔تاہم ابھی یہاں اسلام کی اصلی صورت کو قائم ہونے میں کافی کاوشیں درکار ہیں۔ دور سلاطین کے بعد اب کشمیر میں اسلامی تنظیموں، مدارس اوردیگراداروں کی تعداد بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ وادیٔ کشمیر میںبالعموم اورسرینگر شہر میںبالخصوص اب دینی خدمت صرف اجتماعات اورکانفرنسوں کے انعقاد تک محدود ہوچکی ہے۔ہرایک تقریرکرنے کا خواہش مند ہے جبکہ سامعی بننے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں۔ہماری درسگاہیں،ہمارے دیارالعلوم ہماری مساجد اورہماری دینی تنظیمیں ایک ایسی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں جہاں صرف ممبر سازی اورتنظیمی سیاست کا عمل جاری ہے اورہر ایک فرد اپنے زیر اثر آئے افراد کی بڑھتی تعداد پر فخر کرتا نظرآتاہے۔
کشمیر میں چند ایک جید علماء موجود تو ہیں مگرانکوبے علم واعظین کی ایک کثیر تعداد نے خاموش بیٹھنے پر مجبورکیاہے۔چند ذی حس اورذہین اہل قلم ہمارے سماج میںسانس تو لے رہے ہیں مگر انکو تنظیموںمیں موجود اہل اختیار آگے آنے کا موقعہ نہیں دیتے کیونکہ انکا طلوع کئی افراد کی شعبدہ بازی کوبے حجاب کر سکتا ہے۔غور طلب ہے کہ ہر سال کروڑوں روپے کی خطیررقم بصورت زکوٰةوصدقات ان اداروں اورتنظیموں کو کشمیرسے حاصل ہوتی ہے مگر آج تک ہم نے ریاست میں اپناکوئی علمی ادارہ قائم نہیں کیا،ہماری مساجد میں امامت اورخطابت کیلئے بیرون ریاست سے امام وخطباء آتے ہیں،آج تک ہم نے ایک بھی تحقیقاتی ادارہ یااشاعتی ادارہ تو دورایک اسلامی تحقیقی لائبریری تک قائم نہیں کی!ہم یہ نہیں کہیں گے کہ کوئی کچھ نہیں کرتا بلکہ حقیقت یہی ہے کہ ہرایک ادارہ اخلاص کے ساتھ کام تو کر رہاہے لیکن اس میں مزید توسیع دینے اوراسکوعلم اورتقوی کی بنیادوںپر مربوط ومنظم کرنے کی ضرورت ہے۔

المنار اس وقت کیا کررہا ہے؟

فاؤنڈیشن نے اپنے تعلیمی ادارہ کی نگرانی میں اپنا ایک سیلبس ترتیب دیکراسکو کئی جزوقتی اسلامی مدارس میں رائج کیا ہے۔ فی الحال المنار کا اپنا ایک جزوقتی مدرسہ اسکے مرکزی دفتر میں چل رہا ہے جہاں دو شفٹوں میں مسلم طالباء کو عربی زبان اوربنیادی علوم اسلامیہ کی تعلیم دی جارہی ہے۔ اسکے علاوہ طلباء کیلئے ہفتہ میں ایک بار اجتماع کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔ المنار نے جز وقتی مدارس کیلئے ”تفہیم الاسلام للأطفال”کے نام سے ایک درسی سیریزتیار کی ہے جو اس مدرسہ کے علاوہ دیگر مدارس میں بھی نہایت ہی اہتمام کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ہر اتوارہفتہ واربنیادوں پر مسجد انعام رڑہ پورہ خانیار سرینگرمیںصبح آٹھ بجے سے گیارہ بجے دن تک عام تدریسی حلقے منعقد ہوتے ہیں۔ان حلقوں میں علوم القرآن،اصولِ حدیث،اصولِ فقہ،علم العقیدہ والتوحید اورعربی زبان وغیرہ پڑھائی جاتی ہے۔ان حلقوں میںزندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہوتے ہیں۔

 اس وقت المنارکے تحقیقی ادارہ کی نگرانی میں کئی پروجیکٹوں پرکام جاری ہے جن میں سے چند ایک نہایت اہمیت کے حامل ہیںاور بہت جلد منظر شہود پر آنے والے ہیں:(١)”تسیہل الوصول” کااردو ترجمہ(٢) ”سلسلة الأحادیث الصحیحة للألبان ”کااردو ترجمہ(٣) ”کتاب التوحیدللامام محمد بن عبدالوہاب” کاکشمیری ترجمہ اورشرح(٤)”عیسائیت اور تثلیث ”کا انگریزی ترجمہ(٥)”مناسک الحج والعمرة للألبان ” کاتصحیح شدہ اردو ترجمہ(٦) ”سنہ ٔ ہجری” کاتصحیح شدہ ایڈیشن(٧)  ”تفہیم الاسلام للأطفال”کاتصحیح شدہ رنگین ایڈیشن وغیرہ۔

المنارکے منصوبے کیا ہیں؟

کشمیر میں علمی اورتحقیقی مزاج کو پروان چڑھانے کیلئے المناراپناعلمی تحقیقی مہنامہ ‘المنار’کے نام سے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔مسلسل توسیعی خطبات کاانعقاد کرنے کیلئے بھی فاؤنڈیشن کے زیر نظر ایک منصوبہ ہے۔اس منصوبہ کے تحت کسی خاص شعبہ کے ماہر کو اُنکے موضوع سے متعلق اپنامقالہ پیش کرنے کیلئے مساجد یا مدارس میںمدعو کیا جائے گا جس پر حاضرین مجلس بعدمیںبحث بھی کریں گے۔مزید یہ مقالہ جات بشمول بحث ”مہنامہ المنار” میں بھی شائع ہوتے رہیں گے۔
سعودی عرب کی اسلامی یونیورسٹیوں اوردیگر تعلیمی اداروں سے آئے کشمیری الاصل فارغین کامسئلہ اب یہاں ایک” المیہ” کی حد تک پہنچ چکا ہے۔اب تک درجنوں علمائے کرام وہاں سے فارغ ہوئے ہیں لیکن یہاں آکران میں سے اکثر کوئی مؤثر علمی کام نہیں کر پاتے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ جمعیة خریج جامعات المملکة العربیة السعودیة جامووکشمیرایک ایسی فورم ہے جہاں سعودی عرب کی اسلامی یونیورسٹیوں اوردیگر تعلیمی اداروں سے یہاں آئے کشمیری الاصل فارغین ایک مربوط قوت کی حیثیت سے کشمیرمیں علمی ،تحقیقی اوردعوتی کام جاری رکھیں گے۔اس فورم کاقیام اسی مقصد کیلئے عمل میں لایا گیا ہے اوراُمید ہے کہ یہ فورم بہت جلد کام کرناشروع کر دے گی۔
اہل سنت وجماعت کے مختلف مکاتب فکر سے وابستہ افرادمیںایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ کام کرنے کے رجحان کو پیدا کرنے کیلئے المنارایک تحقیقی بورڈ کے انعقاد کیلئے کوشان ہے۔اس بورڈکا نام تحقیقی بورڈ برائے علمائے کشمیرہوگا۔اس بورڈ کے ذریعہ علمائے کرام اپنی فکر کویکجا کرکے آنے والی نسل کیلئے ایک واضح لائحہ عمل رکھیں گے۔
کشمیر میںجز وقتی مدارس اسلامیہ کی ایک اچھی خاصی تعداد قائم ہے جن میں سے اکثر غیر مؤثرہیں۔جمعیتِ جز وقتی مدارسِ کشمیران مدارس کی کاوشوں کو مربوط ،منظم اورثمریاب بنانے کیلئے المنارکی طرف سے قائم کی گئی فورم کانام ہے۔
المنار کے زیر نظر ایک ایسا کُل وقتی جدید مدرسہ قائم کرنے کا منصوبہ ہے جہاںطلباء کوعلوم اسلامیہ کی تعلیم منہجِ سلفِ صالح کے مطابق دی جائے گی۔مزیداس مدرسہ میں سماجی علوم (Social Sciences)کے علاوہ تاریخ اورادب پر بھی زور ہوگاتاکہ فارغین مختلف قسم کی کہتریوں سے بڑی حد تک پاک ہوں۔
التصفیة والتربیة جیسے صبر آزماکام کیلئے ضروری ہے کہ ایک جدید اورمکمل تحقیقی لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائے ۔اس مقصد کیلئے فاؤنڈیشن نے المنار ریسرچ لائبریری کے نام سے ایک لائبریری کی بنیاد ڈالی ہے جس پراس وقت کام جاری ہے اورامید ہے کہ مستقبل قریب میں یہ لائبریری یہاں کی بنیادی علمی ضروریات کوپورا کرے گی۔
ان ہمہ جہت علمی ،تحقیقی ،دعوتی اوراصلاحی کاموں کے علاوہ المنار خیرات وصدقات کو جمع کرکے اسکو غریب ومساکین میں تقسیم کرنے کا نظام دردست لے رہا ہے جس کے لئے المنارچیرٹیبل سینٹر کے نام سے ایک ذیلی ادارہ قائم ہے۔مستقبل قریب میںمذکورہ ادارہ اپنے کام میں توسیع پیدا کرنے کا خواہان ہے۔
آپ سے گزارش ہے

المنار کے خاکوں میں رنگ بھرنے کیلئے آپ سے تعاون کی مخلصانہ گزارش ہے ۔یہ تعاون آپ کسی بھی صورت میں پیش کر سکتے ہیں۔مزید معلومات کیلئے ہمارے ویب پیج کو دیکھ لیں۔آپ اپناردعمل درجہ ذیل پتہ /ای میل یافون کے ذریعہ ہم تک پہنچا سکتے ہیں۔

(ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اورصلاة کے قائم کرنے اورزکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔)

(القرآن،سورة النور:37)

For Further Information Log on at:

https://toalmanar.wordpress.com/about/

Advertisements
 
1 Comment

Posted by on January 27, 2011 in 1. About

 

One response to “المنارمسلم فاؤنڈیشن

  1. Burhan Qureshi, Bihar

    June 22, 2011 at 12:40 pm

    bahut khoob. agar baat yeh hain to yeh idara khoob taraqi karayga. insha allah.

     

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: